حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان انسان کی حقیقت کو پہچاننے کا معیار
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان: انسان کی حقیقت کو پہچاننے کا معیار
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"جس کا ظرف دیکھنا ہو اسے عزت دو، فطرت دیکھنی ہو تو اسے آزادی دو، نیت دیکھنی ہو تو اسے قرض دو، اور خصلت دیکھنی ہو تو اس کے ساتھ کھانا کھاؤ۔"
یہ قول انسانی کردار کو پرکھنے کا ایک نہایت حکیمانہ اصول بیان کرتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان اس کی ظاہری شکل، دولت یا زبان سے نہیں بلکہ اس کے رویے، اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے۔
اگر کسی شخص کا ظرف جاننا ہو تو اسے عزت اور احترام دیں۔ باکردار انسان عزت ملنے پر مزید عاجزی اختیار کرتا ہے، جبکہ کم ظرف شخص غرور اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کسی کی فطرت جاننی ہو تو اسے آزادی دیں۔ جب انسان پر کوئی پابندی نہ ہو تو اس کی اصل عادات، سوچ اور اخلاق نمایاں ہو جاتے ہیں۔
اگر کسی کی نیت کو پرکھنا ہو تو اسے قرض دیں۔ دیانت دار اور نیک نیت انسان قرض کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور وقت پر واپس کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بد نیت شخص وعدوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
اور اگر کسی کی خصلت اور اخلاق دیکھنے ہوں تو اس کے ساتھ کھانا کھائیں۔ کھانے کے دوران انسان کا انداز، دوسروں کے ساتھ اس کا برتاؤ، شکر گزاری، صبر اور تہذیب اس کے کردار کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہ فرمان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی پہچان اس کے عمل اور کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے دعوؤں سے۔ اگر ہم اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں اور دوسروں کے ساتھ دیانت، احترام اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں تو معاشرہ امن، محبت اور اعتماد کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین اخلاق، سچی نیت، اعلیٰ کردار اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment